Posts

Showing posts from February, 2018

کنکریاں

کنکریاں  عامر حسینی  بیٹا!یہ جدہ ہے یہاں سے ہم احرام باندھیں گے اور پھر اپنے مقدس ترین سفر کا آغاز کردیں گے-میرے بابا کی آواز میرے کان میں پڑی تو میں چونک گیا-اس سے قبل جدہ کی دور سے نطر آتی بلند و بالا عمارتین دیکھ کر مجھ پر ایک عجب طرج کی ہیبت طاری تھی-میں سوچ رہا تھا کہ یہ تو وہ حجاز نہیں ہے جس کا تذکرہ فلپ کے ہیٹی نے اپنی کتاب "دی عرب"میں کیا تھا-اور جب میں عربی ادب میں ڈاکٹریٹ کررہا تھا تھا تو اس دوران عربوں کی متداول کتب میں جس حجاز کا نقشہ کھینچا گیا تھا یہ وہ بھی نہیں تھا- مجھے اب تک یہ بھی سمجھ نہیں آیا تھا کہ میرے بابا نے بحری سفر کیوں اختیار کیا تھا؟مین نے اچانک بابا سے پوچھا کہ بابا جانی! ہم ہوائی سفر اختیار کرتے تو بہت آرام سے پہنچتے -تو بابا جو کہ سفید براق احرام میں لپٹے ہوئے تھے مجھے کہنے لگے بیٹا!تمہارے دادا بھی سفینہ عابد سے حج کرنے آئے تھے-میں نے کہا بابا مجھے تھوڑا تھوڑا تو یار ہے- دادا اور دادی کے حج پر جانے کا واقعہ-بابا نہ جانے کس خیال میں تھے-اچانک ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ جب تمہارے دادا اور دادی نے اچانک حج پن جانے کا اعلان کیا تھا ...

میری وفات

میری وفات سرما کی ایک یخ زدہ  ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات  ہوئی۔ اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح  ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی ۔ڈاکٹر نے دوائیں  تبدیل کیں  مگر خلافِ معمول خاموش رہا۔مجھ سے کوئی بات کی نہ میری بیوی سے۔بس خالی خالی آنکھوں سے ہم دونوں کو دیکھتا رہا۔ دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔جو بیٹا پاکستان میں تھا'وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں  دونوں یونیسف کے سروےکے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔لاہور والی بیٹی کو بھی میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں بے حد مصروف  ہے اور بچوں کی وجہ سے خود اس کا آنا بھی مشکل ہے۔رہے  دو لڑکے جو بیرون ملک ہیں 'انہیں  پریشان کرنے کی کوئی تُک  نہ تھی !یوں  صرف میں اور بیوی ہی گھر پر تھے اور ایک ملازم!جو شام ڈھلے اپنے گھر چلا  جاتا تھا۔ عصر ڈھلنے لگی تو مجھے  محسوس ہوا کہ نقاہت کے مارے بات کرنا مشکل ہورہا ہے۔میں نے اپنی پرانی ڈائری نکالی 'بیوی کو پاس  بٹھا کر رقوم کی تفصیل بتانے لگا جو میں نے وصول کرنا تھیں اور دوسروں کو ادا کرنا تھیں ...

زیارت عاشورا (غیر معروفہ)

زیارت عاشورا (غیر معروفہ) زیارت عاشورا غیر معروفہ   حضرت امام حسین  ع کیلئے پڑھی جانے والی زیارتوں میں سے ایک ہے کہ جسے  عاشورا  کے روز پڑھا جاتا ہے۔فضیلت کے اعتبار سے معروفہ اور غیر معروفہ زیارت عاشورا دونوں برابر ہیں۔ یہ زیارت معروفہ زیارت عاشورا سے کچھ مختلف ہے جیسے سو مرتبہ  سلام بھیجنے اور  لعنت  کے جملے اس  زیارت  میں مذکور نہیں ہیں۔ سند یہ زیارت مزار قدیم [نوٹ 1]  سے منقول ہے [1]  اور اس زیارت کے  راوی  کا نام  علقمہ بن محمد حضرمی  ہےکہ جس نے اسے  امام باقر(ع)  سے روایت کیا ہے۔ [2]   شیخ عباس قمی  نے اسے  مفاتیح الجنان  میں  معروف زیارت عاشورا  کے بعد اور  زیارت اربعین  سے پہلے ذکر کیا ہے۔ [3] فضیلت زیارت عاشورائے غیر معروفہ  امام حسین  ع کیلئے پڑھی جانے والی زیارت ہے جو روز عاشورا اور اس کے علواہ دیر ایم میں پڑھی جاتی ہے۔ [4]  کہا گیا ہے کہ زیارت عاشورا معروفہ ہو یا غیر معروفہ ہو دونوں ثواب کے لحاظ سے یکساں ہیں۔ [5]   شیع...