کنکریاں
کنکریاں عامر حسینی بیٹا!یہ جدہ ہے یہاں سے ہم احرام باندھیں گے اور پھر اپنے مقدس ترین سفر کا آغاز کردیں گے-میرے بابا کی آواز میرے کان میں پڑی تو میں چونک گیا-اس سے قبل جدہ کی دور سے نطر آتی بلند و بالا عمارتین دیکھ کر مجھ پر ایک عجب طرج کی ہیبت طاری تھی-میں سوچ رہا تھا کہ یہ تو وہ حجاز نہیں ہے جس کا تذکرہ فلپ کے ہیٹی نے اپنی کتاب "دی عرب"میں کیا تھا-اور جب میں عربی ادب میں ڈاکٹریٹ کررہا تھا تھا تو اس دوران عربوں کی متداول کتب میں جس حجاز کا نقشہ کھینچا گیا تھا یہ وہ بھی نہیں تھا- مجھے اب تک یہ بھی سمجھ نہیں آیا تھا کہ میرے بابا نے بحری سفر کیوں اختیار کیا تھا؟مین نے اچانک بابا سے پوچھا کہ بابا جانی! ہم ہوائی سفر اختیار کرتے تو بہت آرام سے پہنچتے -تو بابا جو کہ سفید براق احرام میں لپٹے ہوئے تھے مجھے کہنے لگے بیٹا!تمہارے دادا بھی سفینہ عابد سے حج کرنے آئے تھے-میں نے کہا بابا مجھے تھوڑا تھوڑا تو یار ہے- دادا اور دادی کے حج پر جانے کا واقعہ-بابا نہ جانے کس خیال میں تھے-اچانک ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ جب تمہارے دادا اور دادی نے اچانک حج پن جانے کا اعلان کیا تھا ...