جنت البقیع
جنت البقیع۔۔۔۔ آغا شورش کاشمیری، مسلک دیوبند کے نقیب، پاکستان کے مشہور اہل قلم اور نامور صحافی تھے۔اُنہوں نے شاہ فیصل کے دور میں سعودی عرب میں 14دن گزارے اور اُن تاثرات کو اپنی مشہور کتاب “شب جائے کہ من بودم” میں تحریر کیا ہے۔ جنت البقیع کے حوالے سے شورش کاشمیری لکھتے ہیں کئی لوگ باہر زائروں کے انتظار میں رہتے اور معاوضہ طے کئے بغیر انعام کی توقع پر ساتھ ہو جاتے ہیں وہ ڈھیریوں کی نشاندہی کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کون سی قبر کس وجود مبارک کی ہے ؟ ۔۔۔ جنت البقیع جو خاندان رسالت کے دو تہائی افراد کا مدفن شروع اسلام کے درخشندہ چہروں کی آخری آرام گاہ اور ان گنت شہدائے اسلام صلحائے امت اور اکابر دین کے سفر آخرت کی منزل ہے، ایک ایسی اہانت کا شکار ہے کہ دیکھتے ہی خون کھول اٹھتا ہے دامن یزداں چاک کرنے کا حوصلہ نہیں، کلاہ سلطانی تک رسائی نہیں، اپنا گریبان چاک کرنےسے فائدہ نہیں ۔۔۔۔ انہیں ذرہ برابر احساس نہیں کہ اس مٹی میں کون سو رہے ہیں، رسول مقبول کے لخت پارے ہیں، انکی نور نظر اور نور نظر کے چشم و چراغ ہیں ۔۔۔۔ عرب ہیں کہ قبریں ڈھائے اور محل بنائے جا رہے ہیں مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی ...