Posts

Showing posts with the label Islamic History

جنت البقیع

Image
جنت البقیع۔۔۔۔  آغا شورش کاشمیری، مسلک دیوبند کے نقیب، پاکستان کے مشہور اہل قلم اور نامور صحافی تھے۔اُنہوں نے شاہ فیصل کے دور میں سعودی عرب میں 14دن گزارے اور اُن تاثرات کو اپنی مشہور کتاب “شب جائے کہ من بودم” میں تحریر کیا ہے۔ جنت البقیع کے حوالے سے شورش کاشمیری لکھتے ہیں کئی لوگ باہر زائروں کے انتظار میں رہتے اور معاوضہ طے کئے بغیر انعام کی توقع پر ساتھ ہو جاتے ہیں وہ ڈھیریوں کی نشاندہی کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کون سی قبر کس وجود مبارک کی ہے ؟ ۔۔۔ جنت البقیع جو خاندان رسالت کے دو تہائی افراد کا مدفن شروع اسلام کے درخشندہ چہروں کی آخری آرام گاہ اور ان گنت شہدائے اسلام صلحائے امت اور اکابر دین کے سفر آخرت کی منزل ہے، ایک ایسی اہانت کا شکار ہے کہ دیکھتے ہی خون کھول اٹھتا ہے دامن یزداں چاک کرنے کا حوصلہ نہیں، کلاہ سلطانی تک رسائی نہیں، اپنا گریبان چاک کرنےسے فائدہ نہیں ۔۔۔۔ انہیں ذرہ برابر احساس نہیں کہ اس مٹی میں کون سو رہے ہیں، رسول مقبول کے لخت پارے ہیں، انکی نور نظر اور نور نظر کے چشم و چراغ ہیں ۔۔۔۔ عرب ہیں کہ قبریں ڈھائے اور محل بنائے جا رہے ہیں مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی ...

تمہارا اسمٰعیل کون ھے؟

تمہارا اسمٰعیل کون ھے؟ کیا ھے؟  ضروری نہیں کہ کوئی اور اسے جانے۔ بس تم جانو اور تمھارا خدا۔۔۔۔ تمھارا اسمٰعیل ممکن ھے تمھارا فرزند نہ ھو، تمھارا واحد بیٹا نہ ھو، تمھاری بیوی ھو، تمھارا شوہر ھو، تمھارا کام ھو، تمھاری شہرت ھو، تمھاری شہوت ھو، تمھاری طاقت ھو، تمھاری پوزیشن ھو، تمھارا مقام ھو۔۔۔ مجھے نہیں معلوم۔۔۔ ہر وہ چیز کہ جو تمھاری نظر میں ابراہیم۴ کے نزدیک اسمٰعیل۴ کی جگہ رکھے۔ ہر وہ چیز کہ جو فرض کی ادائیگی میں رکاوٹ بن گئی ھے، تمھاری آزادی کی راہ میں حائل ھو گئی ھے، اس لذت سے مل گئی ھے کہ جو تمھیں اپنے ساتھ رہنے کو کہہ رہی ھے، جو عوامی یا سماجی زنجیر کی طرح تمہیں تمھاری پائیدار زمین پر باندھے ہوۓ ھے اور جانے نہیں دے رہی ھے۔ وہی۔۔۔ کہ جو ابلیس کے ساتھ شریکِ کار بنی ھے تاکہ تم اسے اپنے پاس رکھو۔ وہی کہ جو تمھارے کانوں کو پیامِ حق کے حضور بہرا کر دیتی ھے، تمھاری سوچ کو تاریک اور دل کو میلا کرتی ھے۔ وہی کہ جو فرمانِ ایمان کے مقابل عصیان کو اور بھاری ذمہ داری سے فرار کے لئے توجیہات پیش کرتی ھے۔ ہر وہ چیز کہ جو تمہیں اپنے پاس رکھتی ھے تاکہ تم اسے اپنے پاس رکھو۔۔۔۔! یہ سب ...