راجہ صاحب محمود آباد کون تھے؟
راجہ صاحب محمود آباد کون تھے؟ از وسعت اللہ خان قبل از بیسویں صدی بھارتی ریاست اتر پردیش کے دارلحکومت لکھنؤسے باون کیلومیٹر پرے ضلع سیتا پورکی ایک تحصیل محمود آباد ہے۔محمود آباد قصبے میں ایک قدیم محل ہے جسے قلعہ کہتے ہیں۔اس قلعے کے اردگرد چھیاسٹھ گاؤں ہیں جو مل ملا کے محمود آباد اسٹیٹ کہلاتے ہیں۔یہاں پر ایک ایسا خاندان اکبرِ اعظم کے دور سے آباد ہے جس کے آباؤ اجداد بغداد کے عباسی دربار سے وابستہ تھے اور ہلاکو خان کے حملے کے بعد ہندوستان آئے اور پھر نسل در نسل محمد تغلق سے جہانگیر تک اور پھر ریاست اودھ کی ایڈمنسٹیریشن میں اور پھر انگریزی دورِ حکومت میں یوپی کے انتظام میں شامل رہے۔اس خاندان کو راجہ صاحب محمود آباد کا خانوادہ کہا جاتا ہے۔ان کے پرکھوں کو صدیوں پر پھیلی جنگی خدمات کے طور پر ہزاروں ایکڑ زمین ملی۔ یوں محمود آباد اسٹیٹ کا شمار یوپی کی امیر کبیر جاگیروں میں ہونے لگا۔اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی میں نواب واجد علی شاہ کا ساتھ دینے کی پاداش میں کمپنی نے محمود آباد اسٹیٹ کے نواب علی خان کی آدھی سے زیادہ جائیداد ضبط کرلی جس میں سے کچھ بعد ازاں واگذار ہوگئی...