پرانے دن

کبھی بارش جو ھوتی تھی تو اپنی ٹین کی چھت پر کئی سُر تال بجتے تھے،

بڑے کمرے کے بیچوں بیچ ہم برتن بھی رکھتے تھے،
کے ان سوراخوں سے جن سے صبح سورج چمکتا تھا کبھی بارش جو ہوتی تھی تو پانی بھی ٹپکتا تھا،

نئے ہمسائے کی بیٹی ھمارے گھر میں آتی تھی ھماری بہنوں کے سنگ بیسنی روٹی پکاتی تھی،

مزا بارش کا جو پرانے گھر میں آتا تھا ابھی تک یاد آتا ھے،

اگرچہ لُو بھی چلتی تھی
فضا بھی گرم ھوتی تھی

اور ایسابھی ھوتا تھا کہ مانو دم نکل جائے،
تو ایسے میں ھم اپنے دوست کو سَتُّـو پلاتےتھے
اگر ھوں جیب میں پیسے تو پھر قلفی بھی کھاتے تھے،

کبھی ایسا بھی ھوتا تھا کہ دسترخوان بچھتا تھا،
تو دسترخوان کے کونے پہ رکھی بالٹی میں آم ھوتے تھے،
کبھی اک دو کبھی دوچار اپنے نام ھوتے تھے،

غریبی میں جو جینے کا مزا تھا ابھی تک یاد آتا ھے،

اور خزاں آتی تھی تو موسم کا عجب ھی ڈھنگ ھوتا تھا،
ھرے پـتوں کا خوف سے پھر پیلا رنگ ھوتا تھا،

جدا ھو جائیں گے وہ یارو شاخ سے کسی بھی دن،
کے روندے جائیں گے پیروں تلے کسی بھی دن

انہی سوکھے ھوئے پتــوں میں پھر اک پھول بھی کھلتا تھا

انہی سوکھے ھوئے پتـوں سے وہ چپکے سے کہتا تھا،

بہاریں پھر بھی آئیں گی،

اور بہار آتی تھی آنگن میں ہمارے پھول کھلتے تھے

ھرے پتے پیڑ پر ہمارے کچھ ایسے ہلتے تھے
کے موسم کے بدل جانے کی وہ خوشیاں مناتے تھے

سناسن سن سناسن سن کوئی نغمہ سناتے تھے

محلے کے جواں لڑکے پتنگیں بھی اڑاتے تھے
کہیں دمچھلہ اڑتی تھی کہیں گڈے لڑاتے تھے

اور کبھی تو جانے بوجھے اک مکان کی چھت پہ ہم 
کسی کو دیکھ کے یارو اپنی پتنگیں بھی گراتے تھے

وہ سردی ھو کے گرمی ھو خزاں آئے بہار آئے

پرانے گھرکے وہ موسم ابھی تک یاد آتے ہیں 
ـــــــــ
بہت ھی یاد آتے ہیں

Comments

Popular posts from this blog

Yaadon ki baraat - یادوں کی بارات - از جوش ملیح آبادی [سوانح حیات]

راجہ صاحب محمود آباد کون تھے؟

جنت البقیع