نقطۂ نظر

نقطۂ نظر

ایک بچے نے سمندر میں اپنا جوتا کھو دیا تو بلکتے ہوئے بچے نے سمندر کے ساحل پر لکھ دیا........ 
یہ سمندر چور ہے.....! 

کچھ ہی فاصلے پر ایک شکاری نے سمندر میں جال پھینکا اور بہت سی مچھلیوں کا شکار کیا تو خوشی کے عالم میں اس نے ساحل پر لکھ دیا....... 
سخاوت کیلئے اسی سمندر کی مثال دی جاتی ہے.....!  

ایک غوطہ خور نے سمندر میں غوطہ لگایا اور وہ اس کا آخری غوطہ ثابت ہوا کنارے پر بیٹھی غمزدہ ماں نے ریت پر ٹپکتے آنسوں سے لکھ دیا.......
یہ سمندر قاتل ہے........!  

ایک بوڑھے شخص کو سمندر نے قیمتی موتی کا تحفہ دیا تو اس نے خوشی سے لکھ دیا........ 
یہ سمندر بڑا کریم اور سخی ہے........!

پھر ایک بہت بڑی لہر آئی اور اسنے سب لکھا ہوا مٹا دیا 
لوگوں کی باتوں پر کان مت دھرو ہر شخص وہ کہتا ہے جہاں سے وہ دیکھتا ہے 
خطاؤں اور غلطيوں کو مٹا دو تاکہ دوستی اور بھائی چارگی چلتی رہے

Comments

Popular posts from this blog

Yaadon ki baraat - یادوں کی بارات - از جوش ملیح آبادی [سوانح حیات]

راجہ صاحب محمود آباد کون تھے؟

جنت البقیع