Posts

Showing posts from July, 2017

توبہ کے لئے بہترین عمل

توبہ کیلئے بہترین نہایت مؤثر عرفانی عمل  ماہِ ذیقعدہ کی پہلی اتوار یعنی بروز 30 جولائی 2017 بلکہ اِس مہینے کے هر اتوار کو توبہ کا مؤثر ترین و مفیدترین عمل (غسلِ توبہ اور نماز توبہ)  جس کا سال میں صرف ایک بار موقعہ ملتا هے. . تبدیلی اور ایک بہترین روحانی سفر کیلئے  اس عمل کی اکثر عرفاء اور اهلِ دل تاکید کرتے رهتے هیں. ابهی سے Reminder سٹ کر دیں اور دوستوں کو بهی اطلاع دیدیں. . توبہ کرنا واجب هے بلکہ فوری واجب هے  یعنی گناہ کے فوراً بعد هی جلد از جلد توبہ کرنا چاهئے.  توبہ کرنے میں تاخیر بهی ایک شیطانی عمل اور مؤثر توبہ کو کمزور کرنے کا فعل هے. اور چونکہ خدا کی رحمت دائمی هے اسی لئے توبہ کیلئے کوئی خاص وقت اور جگہ معین نہیں.  لیکن ! سال بهر کے دنوں میں کچھ دن ایسے هیں  جن کی خاص فضیلت اور ظرفیت کی بناء پر  ان میں توبہ کا تکرار نہایت مفید اور موثر هے.  انہیں دنوں میں سے ایک منفرد دن٬ ماہ ذیقعدہ کی پہلی اتوار هے بلکہ اِس مہینے کا هر اتوار هے. . حضرت رسول اﷲ (ص) کا فرمان هے  کہ جو شخص ماہ ذیقعدہ ک...

دین کی قیمت

ﺍﯾﮏ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺩﯾﻦ ﺑﮍﺍ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ﮐﺎ ﺟﻮﺗﺎ ﭘﮭﭧ ﮔﯿﺎ۔ ﻭﮦ ﻣﻮﭼﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ : ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻮﺗﺎ ﻣﺮﻣﺖ ﮐﺮﺩﻭ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻣﯿﮟ ، ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﺘﺎﺅﮞ ﮔﺎ۔ ﻣﻮﭼﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺭﮐﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﮮ۔ ﻃﺎﻟﺐِ ﻋﻠﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﭘﯿﺴﮯ ﺗﻮﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻮﭼﯽ ﮐﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﮯ ﺟﻮﺗﺎ ﻣﺮﻣﺖ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ۔ﻃﺎﻟﺐِ ﻋﻠﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳُﻨﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ : ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﺗﮭﮯ : ﻃﺎﻟﺐِ ﻋﻠﻢ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﭼﮭﺎ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭ : ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺗﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻢ ﺳﺒﺰﯼ ﻣﻨﮉﯼ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻭ۔ ﻭﮦ ﻃﺎﻟﺐِ ﻋﻠﻢ ﻣﻮﺗﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺳﺒﺰﯼ ﻣﻨﮉﯼ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺳﺒﺰﯼ ﻓﺮﻭﺵ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﺱ ﻣﻮﺗﯽ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻟﮕﺎﺅ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﻟﯿﻤﻮﮞ ﺍُﭨﮭﺎ ﻟﻮ۔ﺍﺱ ﻣﻮﺗﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﮐﮭﯿﻠﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﻭﮦ ﺑﭽﮧ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ : ﺍﺱ ﻣﻮﺗﯽ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺩﻭ ﯾﺎ ﺗﯿﻦ ﻟﯿﻤﻮﮞ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﭼﮭﺎ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺳُﻨﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻭ۔ﻭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﯽ ﮨﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻮﺗﯽ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺩﮐﺎﻥ ﺩﺍﺭ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ...

اللہ پاک کے لاڈلے۔۔۔

یه واقعه میرے ایک عزیز دوست ندیم  صاحب نے بھیجا ھے یه ان دنوں کی بات ھے جب میں  جوہر شادی ہال (J complex) کے قریب   ایک فلیٹ میِں رہتا تھا. اس پوش کالونی کے ساتھ ساتھ جاتی سڑک کے کنارے کنارے ہوٹل، جوس کارنر، فروٹ کارنر بھی چلتے چلے جاتے تھے آگے ایک چوک تھا  رمضان کے دن تھے شام ھونے کوتھی  افطاری کے لئے فروٹ خریدنے کے لئے ادھر آیا تھا.چوک کے دائیں طرف  نکڑ  پر اک ریڑھی کھڑی نظر آئی تھی، اسکے تروتازہ  پھلوں نے مجھے اپنی طرف متوجه کیا ایسا لگا جیسے کوئی نادیدہ قوت مجھے اس طرف کھینچ رھی ھے میں آس پاس کی تمام ریڑھیوں کو نظر انداز کرتا ھوا ریڑھی کے پاس جا پہنچا. اک نگاه  پھلوں پہ ڈالی ادھر اُدھر دیکھا کوئی  بیچنے والا نه تھا.  افطاری کے وقت کے قریب ھونے روزے کی وجه  نقاہت و سستی کی کیفیت طاری تھی ، اسی اثنا میں  میں ایک گیارہ بارہ سال کا بچہ پاس سے  گزرا، مجھے دیکھ کر کہنے لگا، فروٹ لینا ھے؟  میں نے ھاں میں سر ھلایا،  وہ بولا "تو لے لو.  چاچا ریڑھی پر نہیں آتا،  یہ دیکھو بورڈ لگا ھوا ھے...

What is Poison?

Once Rumi was questioned,  What is Poison? He replied with a beautiful answer! "Anything which is more than our necessity is Poison. It may be Power, Wealth, Hunger, Ego, Greed, Laziness, Love, Hate, Ambition or anything else. 

دس باتیں جو ہربھارتی کو پاکستانیوں سے سیکھنا چاہئیں۔۔۔ انڈیا ٹائمز کا اداریہ

”ہم پاکستانیوں کو پسند نہیں کرتے لیکن یہ 10باتیں پاکستان سے ہر بھارتی کو سیکھنی چاہئیں کہ ۔۔۔۔“ بھارتی اخبار کا وہ مضمون جسے پڑھ کر ہر وقت اپنے ملک کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے منہ بند ہو جائیں گے  پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کا ازلی دشمن کہا یا سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کبھی یہ دونوں ملک ایک ہوا کرتے تھے۔ آج بھی دونوں ممالک اور ان کے عوام میں بہت سی چیزیں مماثل پائی جاتی ہیں۔ تاہم بعض ایسی چیزیں بھی ہیں جن میں تقسیم کے بعد کوئی ایک ملک آگے بڑھ گیا تو دوسرا پیچھے رہ گیا، لیکن ہم ایک دوسرے کی ان چیزوں پر تو نظر رکھتے ہیں جن میں وہ ہم سے پیچھے رہ گئے مگر وہ چیزیں نہیں دیکھتے جن میں دوسرا ہم سے آگے بڑھ گیا۔ بھارتی اخبار انڈیا ٹائمز نے اپنے ایک آرٹیکل میں پاکستان کی 10ایسی ہی چیزیں بیان کی ہیں جن میں پاکستان بھارت سے آگے ہیں اور بھارت کو پاکستان سے وہ چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ آرٹیکل اگرچہ 2سال قبل شائع ہوا لیکن آپ اسے سدابہار کہہ سکتے ہیں کیونکہ آج بھی اس سے دوسرے ملک کی اچھی چیزوں سے سبق حاصل کرنے کی ترغیب ملتی ہے اور ہمیشہ ملتی رہے گی۔  انڈیا ٹائ...

بڑھتی عمر اور جنسی تعلیم کی ضرورت

گڑیا دس سال کی ہوگئی تھی ۔ بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ گڑیا کے اندر آہستہ آہستہ نئی زہنی و جسمانی تبدیلیاں جنم لے رہی تھیں ۔ لیکن وہ اس سے نا آشنا تھی ۔ وہ اپنے تئیں ان تبدیلیوں کو سجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ لیکن اسے کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ یہی حال پپو کا بھی تھا۔ وہ گڑیا سے دو سال بڑا تھا۔ لیکن موروثی قد کاٹھ کی وجہ سے پندرہ سال کا لگتا تھا۔ یہی وراثت اسے دیگر زہنی و جسمانی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی منتقل ہوئی تھی۔ اسلئے اس کی پریشانی دن بدن بڑھتی جا رہی تھی۔ گڑیا اور پپو کے ابو اپنا کاروبار کرتے تھے ۔ جب کہ امی ایک سکول ٹیچر تھیں۔ امی صبح نا شتہ بنا کر بچوں کو سکول بھجوا دیتی ۔ اور خود بھی سکول چلی جاتی ۔ سکول سے واپس آ کر امی تھوڑا آرام کرتی اور بچے موبائل یا کمییوٹر استعمال کرنے بیٹھ جاتے۔ اس کے بعد مدرسے کا ٹائم ہو جاتا ۔ واپس آ کر بچے کھیل کود کے لئے نکل جاتے۔ واپس آ کر ہوم ورک کرتے یا ٹی وی دیکھتے ۔ ابو دکان سے دن بھر کے تھکے ہارے رات کو گھر پہنچتے ۔ پپو ان کے قریب بیٹھتا یا سوال کرنے کی کوشش کرتا تو امی منع کرتی کہ باپ کو تنگ نہ کرو ۔ سارے دن کے تھکے ہارے آئے ہیں۔ ...

Quality of a True Leader by Gorbachev

Image

اﻟﺼَّﺎﺑِﺮِﻳﻦَ ﻭَاﻟﺼَّﺎﺩِﻗِﻴﻦَ ﻭَاﻟْﻘَﺎﻧِﺘِﻴﻦَ ﻭَاﻟْﻤُﻨْﻔِﻘِﻴﻦَ ﻭَاﻟْﻤُﺴْﺘَﻐْﻔِﺮِﻳﻦَ ﺑِﺎﻷَْﺳْﺤَﺎﺭ

ان سب لفظوں کے درمیان "و" ہے. جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایک شخص ان سب خوبیوں کا حامل ہوسکتا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی ایک شخص میں صبر ہے، اور دوسرا صادق ہے.  اور وہ سب ہی ان لوگوں میں سے ہیں جن سے اللہ راضی ہوگا.  اﻟﺼَّﺎﺑِﺮِﻳﻦَ یہ وہ لوگ ہیں جو صبر کرتے ہیں ﻭَاﻟﺼَّﺎﺩِﻗِﻴﻦَ اور سچ بولنے والے  ممکن ہیں سچ بولنے والے میں صبر کی کمی ہو، مگر اس کیٹگری میں اس کا مقام اونچا ہو.  ﻭَاﻟْﻘَﺎﻧِﺘِﻴﻦَ اور وہ جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اس کے آگے مسخر ہیں.  قنوت، مطیع سے مختلف ہے. مطیع "اطاعت گزار" کو کہتے ہیں.  جبکہ، قانت کہتے ہیں "جو ہر وقت اطاعت کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہو" آپ  اسے حکم دیتے ہیں اور وہ فوراً عمل کے لیے اُٹھ جاتا ہے.  مثال کے طور پر، آپ کو پانی چاہیے، آپ اپنے بچوں سے کہتے ہیں. بار بار انہیں پکارتے ہیں. مگر ان میں سے ایک ایسا ہوتا ہے جو آپ کی آواز پہ فوراً اُٹھ جاتا ہے، جیسے وہ آپ ہی کی آواز کا منتظر تھا.  یہ قنوت ہے. کہ وہ فوری طور پہ اطاعت کے لیے تیار ہے.  ﻭَاﻟْﻤُﻨْﻔِﻘِﻴﻦَ اور وہ جو خرچ کرتے...