کون ہوگا جو اردو ادب کے بارے میں بہت تھوڑی سی معلومات ہی کیوں نہ رکھتا ہو، مگر جوش ملیح آبادی سے واقف نہ ہو۔ وہ انقلاب، تفکر اور تحرک جو جوش کی شاعری سے ملتا ہے، کسی اور شاعر کا طرہ امتیاز نہیں رہا۔ جوش کی اپنی زندگی کی کہانی ان کے اپنے قلم سے "یادوں کی بارات" کے نام سے شائع ہوئی۔ یہاں ادب و علم کے طلبگاروں کی آسانی کے لئے pdf دستاویز کی صورت میں پیش کررہا ہوں۔ امید ہے آپ پسند فرمائیں گے۔ Download or Read Online Yaadon ki Baraat
جنت البقیع۔۔۔۔ آغا شورش کاشمیری، مسلک دیوبند کے نقیب، پاکستان کے مشہور اہل قلم اور نامور صحافی تھے۔اُنہوں نے شاہ فیصل کے دور میں سعودی عرب میں 14دن گزارے اور اُن تاثرات کو اپنی مشہور کتاب “شب جائے کہ من بودم” میں تحریر کیا ہے۔ جنت البقیع کے حوالے سے شورش کاشمیری لکھتے ہیں کئی لوگ باہر زائروں کے انتظار میں رہتے اور معاوضہ طے کئے بغیر انعام کی توقع پر ساتھ ہو جاتے ہیں وہ ڈھیریوں کی نشاندہی کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کون سی قبر کس وجود مبارک کی ہے ؟ ۔۔۔ جنت البقیع جو خاندان رسالت کے دو تہائی افراد کا مدفن شروع اسلام کے درخشندہ چہروں کی آخری آرام گاہ اور ان گنت شہدائے اسلام صلحائے امت اور اکابر دین کے سفر آخرت کی منزل ہے، ایک ایسی اہانت کا شکار ہے کہ دیکھتے ہی خون کھول اٹھتا ہے دامن یزداں چاک کرنے کا حوصلہ نہیں، کلاہ سلطانی تک رسائی نہیں، اپنا گریبان چاک کرنےسے فائدہ نہیں ۔۔۔۔ انہیں ذرہ برابر احساس نہیں کہ اس مٹی میں کون سو رہے ہیں، رسول مقبول کے لخت پارے ہیں، انکی نور نظر اور نور نظر کے چشم و چراغ ہیں ۔۔۔۔ عرب ہیں کہ قبریں ڈھائے اور محل بنائے جا رہے ہیں مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی ...
🍃🍃 فضائل پان 🍃🍃 پان وہ واحد روحانی غذا ہے جو اللہ کی پیدا کردہ قدرتی حالت میں کھائی جاتی ہے ۔ پان وہ دولت ہے جس کی محبت بالخصوص اللہ والوں کے دلوں میں فطرتاً ڈال دی گئی ہے پان ہی وہ عظیم شے ہے جس کو کھانے سے انسان کے اندر ناقابل بیان چستی وپھرتی آجاتی ہے پان ہی وہ واحد نعمت ہے جو ہرے جنّتی رنگ کی ہوتی ہے اور انسانی منہ میں جاکر گہرے سرخ رنگ میں تبدیل ہوکر اپنی رنگا رنگی کی دلکش مثال پیش کرتی ہے پان ہی وہ آزاد غذا ہے جسے کھانے کے لیے آپ کو باقاعدہ دستر خوان اور بیٹھنے کی قطعا حاجت نہیں جسے آپ راستوں میں میدانوں میں بازاروں میں بس اڈوں پر ایرپورٹ پر باغات میں جنگلات میں نیز مسجد میں(فتاوی محمودیہ) گھر میں بلا تکلف کھاسکتے ہیں پان ہی وہ لاجواب ولا ثانی غذا ہے جسے آپ چلتے پھرتے دوڑتے بھاگتے لیٹے بیٹھے سوتے جاگتے ہر حالت میں بآسانی کھاسکتے ہیں پان کی فضیلت کے لیے یہ بات بہت کافی ہے کہ علامہ کشمیری جیسی شخصیت پان کی دلدادہ تھی پان کی یہ کرامت پوری کائنات کےمشاہدے میں ہیکہ کسی بھی مضمون یا کتاب کو سمجھنے یا مشکل مسئلے کو حل کرنے یا پیچیدہ موضوع سلجھانے کے لیے پان سے زیادہ مؤثر معجون ...
Comments