کون ہوگا جو اردو ادب کے بارے میں بہت تھوڑی سی معلومات ہی کیوں نہ رکھتا ہو، مگر جوش ملیح آبادی سے واقف نہ ہو۔ وہ انقلاب، تفکر اور تحرک جو جوش کی شاعری سے ملتا ہے، کسی اور شاعر کا طرہ امتیاز نہیں رہا۔ جوش کی اپنی زندگی کی کہانی ان کے اپنے قلم سے "یادوں کی بارات" کے نام سے شائع ہوئی۔ یہاں ادب و علم کے طلبگاروں کی آسانی کے لئے pdf دستاویز کی صورت میں پیش کررہا ہوں۔ امید ہے آپ پسند فرمائیں گے۔ Download or Read Online Yaadon ki Baraat
راجہ صاحب محمود آباد کون تھے؟ از وسعت اللہ خان قبل از بیسویں صدی بھارتی ریاست اتر پردیش کے دارلحکومت لکھنؤسے باون کیلومیٹر پرے ضلع سیتا پورکی ایک تحصیل محمود آباد ہے۔محمود آباد قصبے میں ایک قدیم محل ہے جسے قلعہ کہتے ہیں۔اس قلعے کے اردگرد چھیاسٹھ گاؤں ہیں جو مل ملا کے محمود آباد اسٹیٹ کہلاتے ہیں۔یہاں پر ایک ایسا خاندان اکبرِ اعظم کے دور سے آباد ہے جس کے آباؤ اجداد بغداد کے عباسی دربار سے وابستہ تھے اور ہلاکو خان کے حملے کے بعد ہندوستان آئے اور پھر نسل در نسل محمد تغلق سے جہانگیر تک اور پھر ریاست اودھ کی ایڈمنسٹیریشن میں اور پھر انگریزی دورِ حکومت میں یوپی کے انتظام میں شامل رہے۔اس خاندان کو راجہ صاحب محمود آباد کا خانوادہ کہا جاتا ہے۔ان کے پرکھوں کو صدیوں پر پھیلی جنگی خدمات کے طور پر ہزاروں ایکڑ زمین ملی۔ یوں محمود آباد اسٹیٹ کا شمار یوپی کی امیر کبیر جاگیروں میں ہونے لگا۔اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی میں نواب واجد علی شاہ کا ساتھ دینے کی پاداش میں کمپنی نے محمود آباد اسٹیٹ کے نواب علی خان کی آدھی سے زیادہ جائیداد ضبط کرلی جس میں سے کچھ بعد ازاں واگذار ہوگئی...
جنت البقیع۔۔۔۔ آغا شورش کاشمیری، مسلک دیوبند کے نقیب، پاکستان کے مشہور اہل قلم اور نامور صحافی تھے۔اُنہوں نے شاہ فیصل کے دور میں سعودی عرب میں 14دن گزارے اور اُن تاثرات کو اپنی مشہور کتاب “شب جائے کہ من بودم” میں تحریر کیا ہے۔ جنت البقیع کے حوالے سے شورش کاشمیری لکھتے ہیں کئی لوگ باہر زائروں کے انتظار میں رہتے اور معاوضہ طے کئے بغیر انعام کی توقع پر ساتھ ہو جاتے ہیں وہ ڈھیریوں کی نشاندہی کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کون سی قبر کس وجود مبارک کی ہے ؟ ۔۔۔ جنت البقیع جو خاندان رسالت کے دو تہائی افراد کا مدفن شروع اسلام کے درخشندہ چہروں کی آخری آرام گاہ اور ان گنت شہدائے اسلام صلحائے امت اور اکابر دین کے سفر آخرت کی منزل ہے، ایک ایسی اہانت کا شکار ہے کہ دیکھتے ہی خون کھول اٹھتا ہے دامن یزداں چاک کرنے کا حوصلہ نہیں، کلاہ سلطانی تک رسائی نہیں، اپنا گریبان چاک کرنےسے فائدہ نہیں ۔۔۔۔ انہیں ذرہ برابر احساس نہیں کہ اس مٹی میں کون سو رہے ہیں، رسول مقبول کے لخت پارے ہیں، انکی نور نظر اور نور نظر کے چشم و چراغ ہیں ۔۔۔۔ عرب ہیں کہ قبریں ڈھائے اور محل بنائے جا رہے ہیں مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی ...
Comments