Posts

پرانے دن

کبھی بارش جو ھوتی تھی تو اپنی ٹین کی چھت پر کئی سُر تال بجتے تھے، بڑے کمرے کے بیچوں بیچ ہم برتن بھی رکھتے تھے، کے ان سوراخوں سے جن سے صبح سورج چمکتا تھا کبھی بارش جو ہوتی تھی تو پانی بھی ٹپکتا تھا، نئے ہمسائے کی بیٹی ھمارے گھر میں آتی تھی ھماری بہنوں کے سنگ بیسنی روٹی پکاتی تھی، مزا بارش کا جو پرانے گھر میں آتا تھا ابھی تک یاد آتا ھے، اگرچہ لُو بھی چلتی تھی فضا بھی گرم ھوتی تھی اور ایسابھی ھوتا تھا کہ مانو دم نکل جائے، تو ایسے میں ھم اپنے دوست کو سَتُّـو پلاتےتھے اگر ھوں جیب میں پیسے تو پھر قلفی بھی کھاتے تھے، کبھی ایسا بھی ھوتا تھا کہ دسترخوان بچھتا تھا، تو دسترخوان کے کونے پہ رکھی بالٹی میں آم ھوتے تھے، کبھی اک دو کبھی دوچار اپنے نام ھوتے تھے، غریبی میں جو جینے کا مزا تھا ابھی تک یاد آتا ھے، اور خزاں آتی تھی تو موسم کا عجب ھی ڈھنگ ھوتا تھا، ھرے پـتوں کا خوف سے پھر پیلا رنگ ھوتا تھا، جدا ھو جائیں گے وہ یارو شاخ سے کسی بھی دن، کے روندے جائیں گے پیروں تلے کسی بھی دن انہی سوکھے ھوئے پتــوں میں پھر اک پھول بھی کھلتا تھا انہی سو...

کنکریاں

کنکریاں  عامر حسینی  بیٹا!یہ جدہ ہے یہاں سے ہم احرام باندھیں گے اور پھر اپنے مقدس ترین سفر کا آغاز کردیں گے-میرے بابا کی آواز میرے کان میں پڑی تو میں چونک گیا-اس سے قبل جدہ کی دور سے نطر آتی بلند و بالا عمارتین دیکھ کر مجھ پر ایک عجب طرج کی ہیبت طاری تھی-میں سوچ رہا تھا کہ یہ تو وہ حجاز نہیں ہے جس کا تذکرہ فلپ کے ہیٹی نے اپنی کتاب "دی عرب"میں کیا تھا-اور جب میں عربی ادب میں ڈاکٹریٹ کررہا تھا تھا تو اس دوران عربوں کی متداول کتب میں جس حجاز کا نقشہ کھینچا گیا تھا یہ وہ بھی نہیں تھا- مجھے اب تک یہ بھی سمجھ نہیں آیا تھا کہ میرے بابا نے بحری سفر کیوں اختیار کیا تھا؟مین نے اچانک بابا سے پوچھا کہ بابا جانی! ہم ہوائی سفر اختیار کرتے تو بہت آرام سے پہنچتے -تو بابا جو کہ سفید براق احرام میں لپٹے ہوئے تھے مجھے کہنے لگے بیٹا!تمہارے دادا بھی سفینہ عابد سے حج کرنے آئے تھے-میں نے کہا بابا مجھے تھوڑا تھوڑا تو یار ہے- دادا اور دادی کے حج پر جانے کا واقعہ-بابا نہ جانے کس خیال میں تھے-اچانک ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ جب تمہارے دادا اور دادی نے اچانک حج پن جانے کا اعلان کیا تھا ...

میری وفات

میری وفات سرما کی ایک یخ زدہ  ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات  ہوئی۔ اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح  ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی ۔ڈاکٹر نے دوائیں  تبدیل کیں  مگر خلافِ معمول خاموش رہا۔مجھ سے کوئی بات کی نہ میری بیوی سے۔بس خالی خالی آنکھوں سے ہم دونوں کو دیکھتا رہا۔ دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔جو بیٹا پاکستان میں تھا'وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں  دونوں یونیسف کے سروےکے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔لاہور والی بیٹی کو بھی میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں بے حد مصروف  ہے اور بچوں کی وجہ سے خود اس کا آنا بھی مشکل ہے۔رہے  دو لڑکے جو بیرون ملک ہیں 'انہیں  پریشان کرنے کی کوئی تُک  نہ تھی !یوں  صرف میں اور بیوی ہی گھر پر تھے اور ایک ملازم!جو شام ڈھلے اپنے گھر چلا  جاتا تھا۔ عصر ڈھلنے لگی تو مجھے  محسوس ہوا کہ نقاہت کے مارے بات کرنا مشکل ہورہا ہے۔میں نے اپنی پرانی ڈائری نکالی 'بیوی کو پاس  بٹھا کر رقوم کی تفصیل بتانے لگا جو میں نے وصول کرنا تھیں اور دوسروں کو ادا کرنا تھیں ...

زیارت عاشورا (غیر معروفہ)

زیارت عاشورا (غیر معروفہ) زیارت عاشورا غیر معروفہ   حضرت امام حسین  ع کیلئے پڑھی جانے والی زیارتوں میں سے ایک ہے کہ جسے  عاشورا  کے روز پڑھا جاتا ہے۔فضیلت کے اعتبار سے معروفہ اور غیر معروفہ زیارت عاشورا دونوں برابر ہیں۔ یہ زیارت معروفہ زیارت عاشورا سے کچھ مختلف ہے جیسے سو مرتبہ  سلام بھیجنے اور  لعنت  کے جملے اس  زیارت  میں مذکور نہیں ہیں۔ سند یہ زیارت مزار قدیم [نوٹ 1]  سے منقول ہے [1]  اور اس زیارت کے  راوی  کا نام  علقمہ بن محمد حضرمی  ہےکہ جس نے اسے  امام باقر(ع)  سے روایت کیا ہے۔ [2]   شیخ عباس قمی  نے اسے  مفاتیح الجنان  میں  معروف زیارت عاشورا  کے بعد اور  زیارت اربعین  سے پہلے ذکر کیا ہے۔ [3] فضیلت زیارت عاشورائے غیر معروفہ  امام حسین  ع کیلئے پڑھی جانے والی زیارت ہے جو روز عاشورا اور اس کے علواہ دیر ایم میں پڑھی جاتی ہے۔ [4]  کہا گیا ہے کہ زیارت عاشورا معروفہ ہو یا غیر معروفہ ہو دونوں ثواب کے لحاظ سے یکساں ہیں۔ [5]   شیع...

تمہارا اسمٰعیل کون ھے؟

تمہارا اسمٰعیل کون ھے؟ کیا ھے؟  ضروری نہیں کہ کوئی اور اسے جانے۔ بس تم جانو اور تمھارا خدا۔۔۔۔ تمھارا اسمٰعیل ممکن ھے تمھارا فرزند نہ ھو، تمھارا واحد بیٹا نہ ھو، تمھاری بیوی ھو، تمھارا شوہر ھو، تمھارا کام ھو، تمھاری شہرت ھو، تمھاری شہوت ھو، تمھاری طاقت ھو، تمھاری پوزیشن ھو، تمھارا مقام ھو۔۔۔ مجھے نہیں معلوم۔۔۔ ہر وہ چیز کہ جو تمھاری نظر میں ابراہیم۴ کے نزدیک اسمٰعیل۴ کی جگہ رکھے۔ ہر وہ چیز کہ جو فرض کی ادائیگی میں رکاوٹ بن گئی ھے، تمھاری آزادی کی راہ میں حائل ھو گئی ھے، اس لذت سے مل گئی ھے کہ جو تمھیں اپنے ساتھ رہنے کو کہہ رہی ھے، جو عوامی یا سماجی زنجیر کی طرح تمہیں تمھاری پائیدار زمین پر باندھے ہوۓ ھے اور جانے نہیں دے رہی ھے۔ وہی۔۔۔ کہ جو ابلیس کے ساتھ شریکِ کار بنی ھے تاکہ تم اسے اپنے پاس رکھو۔ وہی کہ جو تمھارے کانوں کو پیامِ حق کے حضور بہرا کر دیتی ھے، تمھاری سوچ کو تاریک اور دل کو میلا کرتی ھے۔ وہی کہ جو فرمانِ ایمان کے مقابل عصیان کو اور بھاری ذمہ داری سے فرار کے لئے توجیہات پیش کرتی ھے۔ ہر وہ چیز کہ جو تمہیں اپنے پاس رکھتی ھے تاکہ تم اسے اپنے پاس رکھو۔۔۔۔! یہ سب ...

4 natural tips to cover graying hair

Graying of hair is a natural process that starts soon after the age of 30. This is due to the decrease in the color-giving pigment, called Melanin. There are a variety of dyes and procedures in the market to help restore our natural color. Such treatments, though effective, end up stripping our hair of their natural oils. To avoid that and cover our grays, we present to you a list of ingredients to help color your hair at home. These all natural ingredients are easy on the pocket, will provide a good color and nourish your hair, reported Times of India . What more could you ask for? Here are four tips to naturally protect your hair from graying: Potato peels Don’t throw away those peels just yet! The most common vegetable found in every kitchen is not just for making French fries anymore. Potato contains a high amount of starch. Owing to this property, the peels act as a natural colorant to help preserve your hair color. This ingredient will slowly cover your grays over a per...

راجہ صاحب محمود آباد کون تھے؟

Image
راجہ صاحب محمود آباد کون تھے؟ از وسعت اللہ خان قبل از بیسویں صدی بھارتی ریاست اتر پردیش کے دارلحکومت لکھنؤسے باون کیلومیٹر پرے ضلع سیتا پورکی ایک تحصیل محمود آباد ہے۔محمود آباد قصبے میں ایک قدیم محل ہے جسے قلعہ کہتے ہیں۔اس قلعے کے اردگرد چھیاسٹھ گاؤں ہیں جو مل ملا کے محمود آباد اسٹیٹ کہلاتے ہیں۔یہاں پر ایک ایسا خاندان اکبرِ اعظم کے دور سے آباد ہے جس کے آباؤ اجداد بغداد کے عباسی دربار سے وابستہ تھے اور ہلاکو خان کے حملے کے بعد ہندوستان آئے اور پھر نسل در نسل محمد تغلق سے جہانگیر تک اور پھر ریاست اودھ کی ایڈمنسٹیریشن میں اور پھر انگریزی دورِ حکومت میں یوپی کے انتظام میں شامل رہے۔اس خاندان کو راجہ صاحب محمود آباد کا خانوادہ کہا جاتا ہے۔ان کے پرکھوں کو صدیوں پر پھیلی جنگی خدمات کے طور پر ہزاروں ایکڑ زمین ملی۔ یوں محمود آباد اسٹیٹ کا شمار یوپی کی امیر کبیر جاگیروں میں ہونے لگا۔اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی میں نواب واجد علی شاہ کا ساتھ دینے کی پاداش میں کمپنی نے محمود آباد اسٹیٹ کے نواب علی خان کی آدھی سے زیادہ جائیداد ضبط کرلی جس میں سے کچھ بعد ازاں واگذار ہوگئی...